01/03/2026
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے اجلاس کا سراغ لگایا، جس کے بعد اس*رائ*یل نے حملہ کیا۔
سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ وقت کے ساتھ معلومات زیادہ مستند ہو گئیں اور امریکی ایجنسی کو اطلاع ملی کہ ہفتہ کی صبح تہران کے وسط میں ایک اعلیٰ ایرانی حکام کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں سپریم لیڈر بھی شریک ہوں گے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس اطلاع کے بعد امریکا اور اس*رائ*یل نے حملے کے وقت میں ردوبدل کیا تاکہ موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس خفیہ اطلاع نے دونوں ممالک کو ایک اہم اور ابتدائی کامیابی فراہم کی اور آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا۔
اخبار کے مطابق، حملے سے قبل امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور انٹیلی جنس شیئرنگ موجود تھی، جبکہ ایران کی قیادت ممکنہ خطرات کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق حملہ رات کی تاریکی میں ہونا تھا، لیکن اجلاس کی اطلاع کے بعد ہفتہ کی صبح آپریشن کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
Disclaimer: This content is provided solely for informational purposes. It is not intended to offend, misrepresent, or promote any form of bias.