28/09/2026
مدینہ شریف جانے والوں کے لیے ایک نہایت اہم بات۔
مسجد نبوی میں جب ہم رسول الله ﷺ کو سلام پیش کرنے جاتے ہیں تو آپ ﷺ کی قبر مبارک کے باہر جالیوں کے اوپر سورہ حجرات کی آیت نمبر 2 سنہری حروف کے ساتھ لکھی گئی ہے۔
📜 Surat No 49 : سورة الحجرات - Ayat No 2
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ( ایسا نہ ہو ) کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبربھی نہ ہو۔
یہ آیت صرف خوبصورتی کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ ہر شخص کے لیے لکھی گئی ہے جو آپ ﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے آتا ہے۔
آئیے اس آیت کا پسِ منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس آیت کے پیچھے ایک واقعہ ہے۔
ایک دفعہ مدینہ شریف میں ایک وفد آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ اُن میں سے کچھ صحابہ اکرام نے اونچی آواز میں بات کرنا شروع کر دی۔ حالانکہ صحابہ کرام نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا بلکہ اُن میں سے کچھ اصحاب کی قدرتی طور پر بلند آواز میں بات کرنے کی عادت تھی۔ لیکن الله تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہو گئی۔ ایک صحابی حضرت ثابت بن قیس ؓ جو کہ قدرتی طور پر بلند آواز رکھتے تھے اس آیت کے نزول کے بعد بہت زیادہ ڈر گئے کہ کہیں ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے خود کو گھر میں بند کر لیا اور بہت زیادہ روئے کہ
میں تو اہل جہنم میں سے ہو گیا ہوں۔
جب نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ ثابت رضی الله عنہ غائب کیوں ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں نہیں ڈانٹا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ثابت ؓ بالکل آگ میں سے نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔
یہ واقعہ صحیح بُخاری حدیث نمبر 4846 میں درج ہے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے کتنا با ادب ہونا چاہیے۔ آج بابِ سلام سے داخل ہونے والے بہت سے لوگ اونچی آواز میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ ویڈیو كال پر لگے ہوتے ہیں اور میں نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ریاض الجنہ میں اگلی صفحوں تک جانے کے لیے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ خدارا ایسی تمام تر چیزوں سے اجتناب کریں کہیں ایسا
نا ہو کہ ہم بے ادبی کر کے اپنے اعمال ضائع کر بیٹھیں۔
الله تعالیٰ ہم سب کو اپنے اور اپنے حبیب کے گھر کی با ادب حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔
تحریر پسند آئے تو اپنے دوست احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
ALM