ALEEF LAAM MEEM

ALEEF LAAM MEEM السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکتہ... ALEEF LAAM MEEM is the source of Teachings of Islam...Plz invite your All Friends to like this page...It is Sdqae Jaria...

مدینہ شریف جانے والوں کے لیے ایک نہایت اہم بات۔مسجد نبوی میں جب ہم رسول الله ﷺ کو سلام پیش کرنے جاتے ہیں تو آپ ﷺ کی قبر ...
28/09/2026

مدینہ شریف جانے والوں کے لیے ایک نہایت اہم بات۔

مسجد نبوی میں جب ہم رسول الله ﷺ کو سلام پیش کرنے جاتے ہیں تو آپ ﷺ کی قبر مبارک کے باہر جالیوں کے اوپر سورہ حجرات کی آیت نمبر 2 سنہری حروف کے ساتھ لکھی گئی ہے۔

📜 Surat No 49 : سورة الحجرات - Ayat No 2
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾

اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ( ایسا نہ ہو ) کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبربھی نہ ہو۔

یہ آیت صرف خوبصورتی کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ ہر شخص کے لیے لکھی گئی ہے جو آپ ﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے آتا ہے۔

آئیے اس آیت کا پسِ منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس آیت کے پیچھے ایک واقعہ ہے۔
ایک دفعہ مدینہ شریف میں ایک وفد آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ اُن میں سے کچھ صحابہ اکرام نے اونچی آواز میں بات کرنا شروع کر دی۔ حالانکہ صحابہ کرام نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا بلکہ اُن میں سے کچھ اصحاب کی قدرتی طور پر بلند آواز میں بات کرنے کی عادت تھی۔ لیکن الله تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہو گئی۔ ایک صحابی حضرت ثابت بن قیس ؓ جو کہ قدرتی طور پر بلند آواز رکھتے تھے اس آیت کے نزول کے بعد بہت زیادہ ڈر گئے کہ کہیں ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے خود کو گھر میں بند کر لیا اور بہت زیادہ روئے کہ
میں تو اہل جہنم میں سے ہو گیا ہوں۔

جب نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ ثابت رضی الله عنہ غائب کیوں ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں نہیں ڈانٹا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ثابت ؓ بالکل آگ میں سے نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔
یہ واقعہ صحیح بُخاری حدیث نمبر 4846 میں درج ہے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے کتنا با ادب ہونا چاہیے۔ آج بابِ سلام سے داخل ہونے والے بہت سے لوگ اونچی آواز میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ ویڈیو كال پر لگے ہوتے ہیں اور میں نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ریاض الجنہ میں اگلی صفحوں تک جانے کے لیے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ خدارا ایسی تمام تر چیزوں سے اجتناب کریں کہیں ایسا
نا ہو کہ ہم بے ادبی کر کے اپنے اعمال ضائع کر بیٹھیں۔

الله تعالیٰ ہم سب کو اپنے اور اپنے حبیب کے گھر کی با ادب حاضری کی سعادت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔

تحریر پسند آئے تو اپنے دوست احباب کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
ALM

میں چاہتی ہوں کہ"میں اور آپ" ہم سباللہ کی  محبت" کے "حصار" میں آجائیں!اندھیروں سے خود بھی بچ جاؤں اور آپ سب کو بھی بچا ل...
27/09/2026

میں چاہتی ہوں کہ"میں اور آپ" ہم سب
اللہ کی محبت" کے "حصار" میں آجائیں!

اندھیروں سے خود بھی بچ جاؤں

اور آپ سب کو بھی بچا لوں ،

اور ہماری زندگیاں قرآن میں ڈھل جائیں۔

ہمارا کلام رسول اللہﷺ کا کلام بن جائے ،

میں چاہتی ہوں کہ

ہمارے ہاتھوں میں ایسی ٹارچ ہو ،

جو حشر کے راستوں کو روشن کر دے

ہماری آنکھوں میں ایسا نور بھرا ہو ،

جس سے جنت کا راستہ ہمارے لیے روشن ہو جائے

ذہن کی گھتیاں سلجھا دوں، ساری تھکن اتار دوں،

میں چاہتی ہوں

ہمارا ذہن ہماری زبان، قرآن بن جائے

ہم انسانیت کیلیے مسیحا بن جائیں ،

ہمیں عرش کے سائے تلے

موتیوں کے منبروں پر سکون سے بیٹھنا نصیب ہو

ہمارا عمل اتباع رسولﷺ میں ڈھل جائے

میں چاہتی ہوں ہمارا دامن علم کے موتیوں سے بھر جائے۔

اور میں چاہتی ہوں

ہم آج کی خوشیوں پر کل کی جنت کو ترجیح دیں

آج وقت لگا دیں، زندگی لٹا دیں، اور کل اللہ کی رضا کو پا لیں۔♥

دعا ہے الله تعالٰی ہم سب سے راضی ہو جائے۔ آمین ثم آمین

(ان شاءالله
ALM

مدینہ شریف میں کوئی حاجی یا کام کرنے والا مسلمان جو کسی دوسرے ملک کا ہو اگر فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ مسجد النبوی میں ا...
26/09/2026

مدینہ شریف میں کوئی حاجی یا کام کرنے والا مسلمان جو کسی دوسرے ملک کا ہو اگر فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ مسجد النبوی میں ادا ہوتا ہے اس کے ورثا کی اجازت لی جاتی ہے اور اگر ورثاء موجود ہوں میت کو کندھا لگانا چاہیں تو کندھا لگا کر اسے جنت البقیع میں لے جا سکتے ہیں اور اسی طرح سے اپنے مردے کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر سکتے ہیں یہاں جنازہ دیکھ کر ہر شخص دوڑتا آئے گا کہ کاش دو قدم میت کو کندھا لگا کر ثواب حاصل کر لے اور یہاں مدینہ میں ہر نماز کے بعد جنازے پڑھائے جاتے ہیں مدینہ شریف میں مرنے کا دل ہر مسلمان کا چاہتا ہے اور ہر مسلمان جنت البقیع میں دفن ہونے کی خواہش رکھتا ہے چونکہ قیامت کے دن یہاں سے جو لوگ حشر کی طرف جائیں گے وہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ جائیں گے۔اللہ مجھے اور آپ کو مدینہ منورہ کی موت نصیب فرمائے آمین۔
محبت سے درود شریف پڑھ لیں 💞
ALM

مدینہ منورہ میں مسجدِ حضرت علی بن ابی طالبؓ ایک تاریخی مقام کے طور پر معروف ہے۔ یہ مسجد مسجدِ سیدہ فاطمہؓ کے مشرق میں ای...
25/09/2026

مدینہ منورہ میں مسجدِ حضرت علی بن ابی طالبؓ ایک تاریخی مقام کے طور پر معروف ہے۔ یہ مسجد مسجدِ سیدہ فاطمہؓ کے مشرق میں ایک بلند جگہ پر واقع بتائی جاتی ہے۔

فراہم کردہ تاریخی معلومات کے مطابق مسجد کی لمبائی تقریباً 8.5 میٹر اور چوڑائی 6.5 میٹر ہے، جبکہ اس تک پہنچنے کے لیے ایک چھوٹی سی سیڑھی بھی موجود ہے۔ روایت کے مطابق اس مسجد کی تعمیر یا تجدید مسجدِ فتح کے دورِ تعمیر و تجدید کے ساتھ ہوئی۔

بعض تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضرت علیؓ نے اسی علاقے میں عمرو بن عبدود کے مقابلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اس مخصوص مقام پر اس واقعے کے وقوع کی نسبت تاریخی روایات کی بنیاد پر بیان کی جاتی ہے۔

ماضی میں اس مقام اور اس سے ملحقہ تاریخی مساجد کی مرمت کی گئی اور ان کی روایتی طرزِ تعمیر کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ علاقے میں شجرکاری اور دیگر بہتری کے اقدامات کے بعد یہ جگہ ایک خوبصورت کھلے علاقے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

مسجدِ حضرت علیؓ سے منسوب یہ مقام مدینہ منورہ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جو اسلامی تاریخ اور غزوۂ احزاب کی یادوں سے وابستہ روایات کو زندہ رکھتے ہیں۔

📍 مسجدِ حضرت علیؓ — مدینہ منورہ

نوٹ: مسجد کی حضرت علیؓ سے نسبت اور غزوۂ احزاب سے متعلق بعض تفصیلات تاریخی روایات میں بیان ہوئی ہیں؛ ان تمام جزئیات کی قطعی تاریخی توثیق مختلف مصادر میں یکساں نہیں۔

Disclaimer

This report is based on historical accounts and publicly available information. Some details regarding the site's attribution, construction, and historical events may vary among sources. Social Asian shares this content for educational and historical purposes and does not claim independent verification of every detail.


Copied
ALM

*اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے؟**الْمُحْسِنِينَ (احسان کرنے والے)* وہ لوگ جو نیکی کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کا ...
24/09/2026

*اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے؟*

*الْمُحْسِنِينَ (احسان کرنے والے)*
وہ لوگ جو نیکی کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتے ہیں!
*الصابرين (صبر کرنے والے)*
وہ لوگ جو مشکل وقت میں ہمت نہیں بارتے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں!

مقامِ ابراہیمؑ — اللہ کے گھر سے جڑی ایک عظیم نشانی 🤍🕋مقامِ ابراہیمؑ وہ مبارک مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے خانۂ کعبہ کی ...
23/09/2026

مقامِ ابراہیمؑ — اللہ کے گھر سے جڑی ایک عظیم نشانی 🤍🕋

مقامِ ابراہیمؑ وہ مبارک مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے دوران کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو اپنی نشانیوں میں شامل فرمایا اور قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾
“اور مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔”
(البقرۃ: 125)

روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ جب کعبہ شریف کی دیواریں بلند کرتے گئے تو مقامِ ابراہیمؑ پر کھڑے ہوتے گئے، اور اللہ کے حکم سے یہ پتھر آپؑ کے لیے سہولت کا ذریعہ بنتا رہا۔ آج بھی اس مبارک مقام پر حضرت ابراہیمؑ کے قدموں کے نشانات منسوب کیے جاتے ہیں۔

اسی لیے طواف مکمل کرنے کے بعد دو رکعت نماز مقامِ ابراہیمؑ کے پیچھے ادا کرنا سنت ہے، اگر وہاں جگہ اور سہولت ہو؛ ورنہ مسجد الحرام میں کسی بھی مناسب جگہ ادا کی جا سکتی ہے۔

یہ صرف ایک پتھر نہیں، بلکہ توحید، اللہ کی اطاعت اور حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانیوں کی یادگار ہے۔ 🕋❤️

اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی طرح اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے لیے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر مسلمان کو بار بار بیت اللہ کی حاضری نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲

مقامِ ابراہیمؑ کی یہ خوبصورت نشانی دیکھ کر دل بے اختیار کہتا ہے: سبحان اللہ، ماشاء اللہ۔.
ALM

بیت اللہ شریف کے جنوب مغربی کونے کو، یمن کی سمت واقع ہونے کی وجہ سے رکنِ یمانی کہا جاتا ہے۔ یہ خانۂ کعبہ کے ان مبارک مق...
22/09/2026

بیت اللہ شریف کے جنوب مغربی کونے کو، یمن کی سمت واقع ہونے کی وجہ سے رکنِ یمانی کہا جاتا ہے۔ یہ خانۂ کعبہ کے ان مبارک مقامات میں شامل ہے جن کی فضیلت احادیثِ نبوی ﷺ میں بیان ہوئی ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے بارے میں روایت ہے:

«إِنَّ مَسْحَ الْحَجَرِ وَالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ يَحُطَّانِ الْخَطَايَا حَطًّا»

یعنی حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کو چھونا گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

رکنِ یمانی کو طواف کے دوران اگر آسانی سے چھونا ممکن ہو تو اسے ہاتھ سے چھونا سنت ہے، تاہم اگر رش زیادہ ہو تو کسی دوسرے شخص کو تکلیف پہنچا کر آگے بڑھنا مناسب نہیں۔

اسی طرح رکنِ یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان یہ قرآنی دعا پڑھنا منقول ہے:

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

رکنِ یمانی ہمیں بیت اللہ شریف کی عظمت، سنتِ نبوی ﷺ اور طواف کے آداب کی یاد دلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بیت اللہ شریف کی حاضری، سنت کے مطابق عبادت اور اپنے گناہوں کی مغفرت نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲🏻🕋
ALM

21/09/2026

روایت ہے کہ مولانا عبدالرحمن جامی نے مکہ معظمہ میں حج سے فارغ ہو کر جب مدینہ منورہ جانے کا عزم کیا تو اسی رات گورنر مکہ کو خواب میں زیارت کرواتے ہوئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حجاج کرام میں عبد الرحمٰن جامی نام کا ایک شخص ایران سے آیا ہوا ہے، اور اسے مدینے آنے سے روکنے کی کوشش کرو۔ اگر وہ وجہ دریافت کرے تو اسے میرا یہ پیغام دو کہ تمہاری جیب میں جو نعت ہے اگر وہ تم نے میرے روضہ پر آکر پڑھی تو مجھے مجبور اشرعی حدود پار کرکے قبر سے ہاتھ نکال کر تم سے مصافحہ کرنا پڑے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم سے ایران میں ہی ملاقات کروں۔

اس کے لیے تم ہر جمعرات کو ۱۰۰ دفعہ درود شریف اور دفعہ نعت پڑھ کر سو جانا، میری زیارت ہو جایا کرے گی۔ گورنر مکہ کی زبانی یہ سن کر جامی ایران پلٹ گئے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق، ہر جمعرات کو یہ عمل کرتے اور زندگی بھر زیارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مستفیض ہوتے رہے۔

تنم فرسودہ جاں پارہ — مکمل اردو ترجمہ
1۔
تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ﷺ
دلم پژمردہ، آوارہ ز عصیاں، یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ:
یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی جدائی کے غم میں میرا جسم کمزور و فرسودہ اور میری جان ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے۔ میرے گناہوں کی وجہ سے میرا دل مرجھا گیا ہے اور بھٹک رہا ہے۔

2۔
چوں سوئے من گذر آری، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت کنم جاں، یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ:
یا رسول اللہ ﷺ! اگر کبھی آپ میرے طرف تشریف لے آئیں، تو میں اس عاجز و نادار ہونے کے باوجود آپ کے مبارک نعلین کے نقش پر اپنی جان قربان کر دوں۔

3۔
زِ کردہ خویش حیرانم، سیاہ شُد روزِ عصیاں
پشیمانم، پشیمانم، پشیماں، یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ:
یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے کیے ہوئے اعمال پر حیران و پریشان ہوں۔ میرے گناہوں نے میری زندگی کو تاریک کر دیا ہے۔ میں بے حد شرمندہ اور پشیمان ہوں، بہت پشیمان ہوں۔

4۔
چوں بازوئے شفاعت را کُشائی بر گنہ گاراں
مَکُن محروم جامی را در آں، یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ:
یا رسول اللہ ﷺ! جب روزِ قیامت آپ گناہ گاروں کے لیے شفاعت کے بازو پھیلائیں، تو اس وقت جامی کو بھی اپنی شفاعت سے محروم نہ فرمائیے۔

خلاصۂ مفہوم:
یہ نعت بنیادی طور پر حضور اکرم ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کی جدائی کا درد، اپنے گناہوں پر ندامت، اور روزِ قیامت شفاعت کی امید کا اظہار ہے۔
ALM

رسول اللہ ﷺ نے دل کیسے جیتے؟مفتی عبدالوہاب تاریخ میں بہت سے فاتح گزرے ہیں، کچھ نے ملک فتح کیے، کچھ نے قلعے مسخر کیے، کچھ...
20/09/2026

رسول اللہ ﷺ نے دل کیسے جیتے؟
مفتی عبدالوہاب

تاریخ میں بہت سے فاتح گزرے ہیں، کچھ نے ملک فتح کیے، کچھ نے قلعے مسخر کیے، کچھ نے تخت الٹ دیے۔ مگر محمدِ عربی ﷺ کی فتوحات کا انداز سب سے جدا اور نرالا تھا۔
آپ ﷺ نے دلوں کو فتح کیا، محبت سے، خیر خواہی سے، نرم خوئی سے، حسن معاشرت سے۔ آپ ﷺ جس دل کے دروازے پر تشریف لے گئے، وہاں دستک نہیں دی، رحمت کی خوشبو بن کر داخل ہوگئے۔

آپ ﷺ کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

آپ ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے رحمت نہ تھے، بلکہ آپ کی رحمت کا دامن دوست و دشمن، بوڑھے اور بچے، آزاد اور غلام، حتیٰ کہ جانوروں تک پھیلا ہوا تھا

وہ دل جو صدیوں کی دشمنی میں پتھر ہوچکے تھے، آپ ﷺ کی محبت سے موم ہوگئے، جو لوگ آپ ﷺ کے نام سے ناواقف تھے، آپ ﷺ کے اخلاق سے آشنا ہوگئے، اور جو کل تک جان لینے والے تھے، وہ آج جان لٹانے والے بن گئے۔

آپ ﷺ دل آزاری نہیں، دل داری کرتے تھے۔

ایک شخص نے آپ ﷺ سے قرض کا تقاضا کیا اور تقاضے میں سختی کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کھینچی۔ صحابہ کو ناگواری ہوئی، مگر آپ ﷺ نے اسے ملامت نہیں کی، بلکہ مسکرائے اور فرمایا کہ اسے اس کا حق دے دو۔

یہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج تھا، اپنا حق چھن جائے تو بھی دوسروں کے دل نہ توڑو۔

آپ ﷺ جانتے تھے کہ انسان کا جسمانی زخم کچھ ہی دنوں میں بھر جاتا ہے، مگر دل کا زخم کبھی کبھی برسوں تک تازہ رہتا ہے۔

مسجد میں ایک دیہاتی آیا اور لاعلمی میں مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہؓ اسے روکنے کے لیے بڑھے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے چھوڑ دو۔"
پھر نرمی سے سمجھایا کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کے لیے ہیں۔

سوچیے ایک غلطی ہوئی، مگر رسول اللہ ﷺ نے غلطی کو نہیں، انسان کو دیکھا۔
یہی خیر خواہی تھی، اصلاح بھی ہو اور دل بھی نہ ٹوٹے۔

آپ ﷺ کی دعوت میں دلیل تھی، مگر اس کے ساتھ محبت بھی، اصلاح تھی، مگر اس کے ساتھ شفقت بھی، حق گوئی تھی، مگر اس کے دامن میں خیر خواہی بھی۔

حضرت زاہرؓ ایک دیہاتی صحابی تھے، دنیا اسے معمولی سمجھتی تھی ظاہری اعتبار سے اسکی کوئی بڑی حیثیت نہ تھی، مگر رسول اللہ ﷺ ان سے محبت فرماتے تھے۔
ایک دن وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ خاموشی سے ان کے پیچھے تشریف لے گئے، انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ زاہرؓ نے پوچھا: کون ہے؟
پھر جب پہچانا تو رسول اللہ ﷺ کی قربت میں خوش ہوگئے۔
آپ ﷺ نے مزاحاً فرمایا:
"اس غلام کو کون خریدے گا؟"
زاہرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مجھے معمولی قیمت والا پائیں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"لیکن اللہ کے ہاں تم معمولی نہیں ہو۔"

کیا خوبصورت انداز ہے، کتنی بہترین تسلی ہے، کتنا پیارا بول ہے۔

دنیا جسے گمنام سمجھ رہی تھی، محمد ﷺ نے اس کے دل پر اپنی مہر محبت ثبت کردی کہ:
تم اللہ کے ہاں معمولی نہیں ہو۔
یہی نبوی محبت تھی کہ لوگوں کو وہ مقام دکھانا جو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
"اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔"
پھر فرمایا کہ میں تمہیں ایک بات کی وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا نہیں چھوڑنا:
"اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك"
محبت کا انداز ملاحظہ کیجئے، اظہار بھی کیا تو صرف جذبات کی تسکین کے لیے نہیں، بلکہ محبت کو آخرت کی کامیابی کا راستہ بنا دیا۔

یہی نبوی محبت ہے اور جو محبت تمہیں اللہ کے قریب نہ کرے، وہ ادھوری ہے۔

حضرت انس نے دس برس رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔
دس سال، کتنا طویل عرصہ ہے، مگر وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی مجھے "اُف" تک نہیں کہا۔

یہ صرف حلم نہیں تھا، یہ انسان کی عزت کا شعور تھا۔

ہم چند دن کسی کے ساتھ رہ کر اس کی خامیاں گنوانا شروع کردیتے ہیں، اور آپ ﷺ نے دس برس ایک بچے کی محبت سے تربیت کی، یقینی بات ہے کہ وہ بچا تھا، کبھی شرارت بھی کی ہوگی، کبھی کسی کام میں سستی بھی کی ہوگی، کبھی مزاج نبوت کے خلاف بھی کوئی کام سرزد ہوا ہوگا، لیکن زبان نبوت سے اف تک نہیں نکلی، قربان جاؤں آپکے اعلی اخلاق پر اے میرے نبی۔

حضرت جابرؓ کے والد شہید ہوگئے اور ان پر قرض تھا۔ حضرت جابرؓ پریشان تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی پریشانی کو صرف سنا نہیں، اپنا مسئلہ سمجھا۔
آپ ﷺ نے ان کے قرض کے معاملے میں مدد فرمائی اور ان کے لیے آسانی پیدا کی۔

یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ خیر خواہی صرف یہ نہیں کہ کسی غم زدہ سے کہا جائے: "اللہ آسانی کریگا۔"
بلکہ کبھی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کے بوجھ میں اپنا کندھا ڈال دیا جائے۔

میں اپنے قلم کوتاہ سے اس اعلی ہستی کے کتنے اخلاق گنواؤں، مختصر اتنا کہ آقا کریم کی محبت ایسی بارش تھی جو صرف پھولوں کو نہیں کانٹوں کو بھی سیراب کرتی تھی۔

اگر ہم واقعی محمد ﷺ کے امتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے گرد ایک ایسی فضا پیدا کرنی ہوگی جہاں لوگ ہماری زبان سے نہیں، ہمارے اخلاق سے اسلام کو پہچانیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم کسی تھکے ہوئے کو سہارا دیں، کسی روتے ہوئے کو تسلی دیں، کسی غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع دیں،
کسی اجنبی کو اپنائیت دیں،
اور کسی ایسے شخص کا ہاتھ تھام لیں جسے دنیا نے چھوڑ دیا ہو۔

شاید یہی ہماری سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے حقیقی وابستگی کی پہلی علامت ہو۔

آپ ﷺ نے دلوں کو تلوار سے نہیں، محبت سے فتح کیا تھا، اب ہماری باری ہے کہ ہم اسی محبت کو اپنے کردار میں زندہ کرتے ہیں یا نہیں۔
ALM

کیا آپ کو وہ لمحہ یاد ہے جب آپ کی نگاہ پہلی بار اللہ کے گھر پر پڑی تھی؟ 🕋🤍جب دل کی دھڑکن تیز ہوگئی، آنکھیں بھیگ گئیں اور...
19/09/2026

کیا آپ کو وہ لمحہ یاد ہے جب آپ کی نگاہ پہلی بار اللہ کے گھر پر پڑی تھی؟ 🕋🤍

جب دل کی دھڑکن تیز ہوگئی، آنکھیں بھیگ گئیں اور یوں محسوس ہوا جیسے زندگی کی ساری کہانیاں ایک ہی دعا میں سمٹ آئی ہوں۔

اس لمحے آپ کے ہونٹوں پر سب سے پہلی دعا کیا تھی؟

اپنے لیے؟ اپنے والدین کے لیے؟ بچوں کے لیے؟ یا کسی ایسے درد کے لیے جسے آپ نے کبھی کسی سے بیان نہیں کیا؟

آج وہ خوبصورت لمحہ ہمارے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔ اور اگر ابھی حاضری نصیب نہیں ہوئی، تو بتائیے: اللہ کے گھر پہنچ کر آپ سب سے پہلے کیا مانگیں گے؟ 🌹

کیا معلوم، آپ کے دل سے نکلی ہوئی ایک دعا کسی اور کے دل میں بھی امید جگا دے۔ 🤲✨
ALM

Address

Lahore

Telephone

923224731813

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALEEF LAAM MEEM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ALEEF LAAM MEEM:

Shortcuts

Share