Lala's Kitchen

Lala's Kitchen We share easy, delicious, and mouthwatering recipes for food lovers of all kinds – from quick snacks to full-course meals.

Follow us for daily cooking inspiration, tips, and the love of good food! ���

24/09/2026

میری ماما کی ہیلپر تھیں ۔ ان سے پتا چلا ,ان کی بیٹی کی اپنے شوہر سے اَن بَن ہو گئی ہے، اور ان کی ایک نواسی ہے جو پیدائش کے بعد سے ان کے پاس رہتی ہے۔

وہ اپنی نواسی کے لیے روزانہ 100 کا دودھ اور 100 روپے کے پیمپر خرید کر شام کو گھر لے کر جاتی ہیں۔ روز کا روز…

جب کبھی میری بیٹی کے پیمپر ختم ہوتے ہیں تو میں اپنے شوہر سے کہتی ہوں وہ پورا پیکٹ لا کر دیتے ہیں۔ بیٹی کی کوئی چیز ہو یا میری ۔بات منہ سے نکلتی ہے، وہ پوری کر دیتے ہیں۔ کبھی مجھے کسی چیز کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ ❤️

اور جتنی بار پیمپر کا نیا پیکٹ آتا ہے، مجھے آنٹی کی وہ بات یاد آ جاتی ہے کہ وہ روزانہ اپنی نواسی کے لیے 100 روپے کا دودھ اور 100 کے پیمپر خرید کر شام کو گھر لے کر جاتی ہیں۔

کتنے کتنے مجبور لوگ ہیں ہمارے معاشرے میں… اور ایک ہم ہیں کہ ہماری خواہشات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ ایک چیز مل جائے تو دوسری چیز پر نظر ہوتی ہے، دوسری مل جائے تو چار چیزیں مزید پسند آ جاتی ہیں۔ جو فہرست میں تیار ہوتی ہیں ۔۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نوازے، ہماری کمائی میں برکت دے، ہمیں کسی کا محتاج نہ کرے اور ہمیں اپنی عطا کی ہوئی بے شمار نعمتوں کی قدر کرنے والا بنائے۔

اس پاک ذات کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں کا لاکھوں کروڑوں مرتبہ شکر۔🤲

الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ۔ 🤍

24/09/2026

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ دھرنوں، احتجاجوں اور لانگ مارچ سے ملکی معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا
اور سارا زور غریب عوام پر پڑے گا۔

لو جی، مطلب اشارہ دے دیا کہ انھوں نے یہ نقصان غرہب عوام کے چمڑی سے ہی پورا کرنا ہے۔
اگر یہی ریلیف عوام کو دے دیتے تو کوئی نکلتا ہی کیوں؟
تاہم چھوڑئیے، یہ سیاسی دھینگا مشتی ہے۔
دھرنے اور لانگ مارچ تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں تاہم پچھلے 13 سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کوئی دن اس سے خالی نہیں رہتا۔ ایسے میں جو نقصانات ہو رہے ہیں، حکمرانوں اور اپوزیشن کے "ڈانوں" کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ حکمران ٹیکس لگا کر عوام سے وصول کر لیتے ہیں اور اپوزیشن بذریعہ چندہ،
لیکن نہ ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ غریب عوام۔اس لیے اس کا مستقل حل نکلنا چاہئیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسلام آباد میں پاک سیکرٹریٹ کو پرانے زمانے کی طرز پر قلعہ بند کر دینا چاہئیے، یعنی پورے سیکرٹریٹ کے گرد مضبوط دیوار تعمیر کر دینی چاہئیے جسے کوئی فسادی پار نہ کر سکے
تاکہ احتجاج ہو، دھرنے ہوں یا لانگ مارچ، کاروبار سلطنت چلتا رہے۔
اس سے روز روز کے کنٹینروں کے خرچے بھی ختم ہو جائیں گے۔

امام صافی

24/09/2026

عرب سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں پڑھا کہ
تمھارے بیوی بچے تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں!

کیسی سچی بات کہی ہے ناں!

بلاشبہ
تمھاری بیوی کی مسکراہٹ، اس کے ناز و ادا، اس کا لباس، اس کا حمل، اس کی زچگی، اس کے ساتھ ہوئی تمھاری ناراضی، تمھاری صلح، تمھارے جھگڑے، تمھاری چھیڑچھاڑ، باہمی خلوت اور تمھارے راز…
یہ سب تمھارے گھر کی زندگی… تمھاری خواب گاہ کے راز ہیں
یہ تمھارے چینل کا خام مال نہیں ہیں!

ایک تم ہی نے تو شادی نہیں کی ہے، ایک تم ہی بچے پیدا نہیں کر رہے کہ بالکل ہی باؤلے ہوگئے ہو! 🤓
ہر وہ چیز جو اتفاق سے تمھیں دیکھنے کو مل گئی ہے، دنیا کو دکھانے کے لیے تو نہیں ملی

ذرا سوچو… بیوی کی زینت، اس کے ناز و ادا، اس کی نجی زندگی نامحرموں کے تماشے کے لیے پیش کرتے کرتے آدمی کہاں جا پہنچتا ہے؟
نہیں… صرف یوٹیوبر نہیں بنتا
وہ اِس بے غیرتی کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے جس کے لیے دین نے نہایت سخت لفظ رکھا ہے: دیوثی!

اور افسوس کہ سوشل میڈیا پر اس دیوثی مزاج کی کمی نہیں… پاکستانی فیملی ولاگنگ میں بھی اُس کی مثالیں خوب ملتی ہیں!

اور تمھارے بچے!
وہ تو ہرگز تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں

وہ بدقسمتی سے تمھارے گھر پیدا ہوگئے ہیں تو تمھیں ان سے ’’ڈیجیٹل چائلڈ لیبر‘‘ لینے کا پروانہ نہیں مل گیا
کبھی کبھار کوئی خاص، خوش گوار اور باوقار لمحہ دوستوں اور عزیزوں سے بانٹنے کا جواز ہوسکتا ہے
لیکن ان کا رونا ہنسنا، ان کا ہگنا موتنا، ان کی شرارت، حماقت، ان کی سزا معافی، ان کا سونا جاگنا، ان کا کھانا پینا، ان کی معصوم اور کبھی شرمندہ کردینے والی باتیں…
یہ سب اُن کا بچپن ہے

اور تمھیں کوئی حق نہیں کہ اپنے ویوز کے لیے روز ان کا تماشا لگا دو
اس سے بھی بدتر یہ کہ ان کے منہ میں اپنی پلانٹڈ باتیں ڈالو
انھیں سکھاؤ کہ کیا کہنا ہے، کیسے رونا ہے، کیسے ہنسنا ہے، کہاں حیران ہونا ہے
تاکہ وہ بولیں اور تم کماؤ
یوں آہستہ آہستہ بچہ بچہ نہیں رہتا… تمھارے چینل کا کردار بن جاتا ہے!

ارے ذرا سوچو تو سہی
جس بچے کو ابھی یہ سمجھ ہی نہیں کہ ’’پبلک‘‘ ہونا کیا ہوتا ہے، لاکھوں اجنبی کیا ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ جانا کیا ہوتا ہے…
اس کی طرف سے ہمیشہ کے لیے پبلک ہونے کا فیصلہ تم کیسے کر رہے ہو؟
آج تم اس کے رونےکو فلما رہے ہو
اُس کی توتلی لڑکھڑاتی زبان، اس کی بچکانہ حرکتیں، اس کی بیماری، اس کی بے بسی، حتیٰ کہ اس کے انتہائی نجی لمحات تک ریکارڈ کر رہے ہو

کل وہ بڑا ہوگا
وہی ویڈیوز برسوں بعد بھی کہیں محفوظ، نقل شدہ یا گردش میں ہوں گی
اور جن مناظر کو دیکھ کر آج تمھیں ویوز مل رہے ہیں، کل انہی کو دیکھ کر تمھارا بچہ منہ چھپاتا ہوگا

اس کی عزتِ نفس، اس کی جوانی، اس کی سماجی زندگی… ان سب کے بارے میں فیصلہ تم آج اس کی مرضی کے بغیرکیسے کر سکتے ہو؟

یاد رکھو…
ان کا بچپن تمھیں سنبھالنے کے لیے دیا گیا ہے، نشر کرنے کے لیے نہیں!

ہاں ہاں چندا… ہم جانتے ہیں کہ روزگار مشکل ہے
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ویوز سے پیسے آتے ہیں، اسپانسر ملتے ہیں، عیاشیوں کے مواقع ملتے ہیں
مگر ہر کمائی کی ایک قیمت ہوتی ہے
اور اگر قیمت یہ ہو کہ آدمی اپنی خلوت، اپنی ازدواجی زندگی اور اپنے بچوں کی معصومیت بازار میں رکھ دے تو ذرا رک کر سوچنا چاہیے…
سودا آخر ہوا کس چیز کا ہے؟
٭٭٭
محمد فیصل شہزاد

23/09/2026

علم نفسیات کے مطابق، مرد کہیں بھی کسی بھی وقت اپنی بیوی کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن وہ ایک لمحہ ہوتا ہے، جس میں وہ موقع پاکر دھوکا دے دیتا ہے۔ باضمیر ہو تو بے چین ہوجاتا ہے اور اپنے جرم کا اعتراف بھی کردیتا ہے۔ لیکن عورت اپنے شوہر کو دھوکا دیتی ہے تو بہت سوچ سمجھ کر اور بڑی غور و فکر کے بعد ایسا کرتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے، ڈھونڈتی ہے، پسند کرتی ہے اور پھر پلاننگ کرکے اس کے ساتھ سوجاتی ہے، اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
مرد دھوکا دیتے ہوئے صرف سیکس کرتا ہے، لیکن عورت دھوکا دیتے ہوئے ذہنی اور جذباتی طور پر بھی انگیج ہوتی ہے، وہ صرف سیکس نہیں کرتی، ساتھ پیار بھی کرتی یے۔
مرد ہر جگہ منہ مارنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے، لیکن عورت شوہر کو دھوکا دیتی ہے تو صرف اپنے پسند کے مرد کے ساتھ ملکر دیتی ہے۔ چیٹنگ والی سیکس میں سب سے زیادہ حصہ عورت کا ہوتا ہے کیونکہ مرد تو ہر وقت تیار رہتا ہے، اصل تیاری اور مرضی عورت کی ہوتی ہے۔
عورت کے ساتھ چیٹنگ ہوتی ہے، تو وہ اپنے جذبات اور احساسات اپنی سہیلیوں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے، مرد کے ساتھ چیٹنگ ہوتی ہے، تو وہ اکیلے مرتا اور اکیلے جل کر راکھ ہوتا ہے۔ #شازار جیلانی

23/09/2026

قطر کے وزیر اعظم نے کل اعلانیہ طور پر بغیر کسی شرم و جھجھک کے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ "مجھے فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد سے اب تک سکون نہیں ملا۔ اس کے بعد 7 اکتوبر (حماس کا اسرائیل پر حملہ) ہو گیا، اور تب سے کوئی ہمیں سانس لینے کا موقع دینے کو تیار نہیں ہے۔ میں سب کی منت کر رہا ہوں کہ ہمیں سال دو ہزار ستائیس کے لیے ایک پرامن سال چاہیے۔ خدارا، ہمیں کچھ آرام کی ضرورت ہے۔"
اکتوبر 2026 میں ان حملوں کو تین سال ہو جانے ہیں جو حماس نے اسرائیل پر کیے تھے اور اس کے بعد دنیا میں ایونٹس تیزی سے بدلنے لگے۔
حسن نصر اللہ گئے، یحییٰ سنوار گئے، اسماعیل ہنیہ گئے، غزہ ملیا میٹ ہو گیا، لبنان کے کئی علاقے ان تین سالوں میں اسرائیل نے بلڈوز کر دیے یہاں تک کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ان تین سالوں میں اسرائیل نے دنیا کو وہ کچھ دکھا دیا جس کا تصور کرنا بھی محال تھا۔
جنگ چونکہ مڈل ایسٹ میں ہو رہی ہے لہذا قدرتی طور مڈل ایسٹ کے ممالک نے بھی متاثر ہونا تھا۔ قطر ان متاثرین میں سے ایک ہے اور اب قطر نے ہاتھ جوڑ دیے ہیں کہ خدا کا واسطہ ہے بریک لے لو۔
جنگ کے ساتھ قطر کا یا قطریوں کا دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود قطر کو ہاتھ جوڑنے پڑ گئے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ امریکہ کے اڈے یہاں پر تھے اور ٹیکٹیکل کمانڈ سینٹر جو اس خطے میں سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے وہ بھی قطر کی میزبانی میں کام کرتا ہے۔ لہذا قطر جنگ میں شامل نا ہونے کے باوجود، نا چاہنے کے باوجود جنگ کا ایک متحرک فریق بن گیا۔
نتیجتاً پہلے قطر کی گیس سپلائی ڈسٹرب ہوئی اور پھر ایک سٹیج پر مکمل رک گئی۔ اس کے بعد بحال تو ہوئی تو مگر قطری معیشت مسلسل نقصان اٹھا رہی ہے۔ اب معاملہ ہاتھ جوڑنے پر پہنچ گیا ہے۔
یہ ابتدا ہے۔ ایک ایک کر کے تمام امریکی اتحادی ہاتھ جوڑ دیں گے۔ چاہے سعودیہ ہو، اردن ہو، کویت ہو، متحدہ عرب امارات ہوں، بحرین ہو یا کوئی اور علاقائی امریکی اتحادی۔ ایک ایک کر کے قطر کی طرح سب سے بیانات آنے شروع ہو جائیں گے۔
یہ مت سمجھیے کہ قطری وزیراعظم نے ایران کو کہا ہے۔ ایران سے تو ان سب کی پہلے دن سے دشمنی چل رہی ہے تو ایران سے یہ کیا ریکوئسٹ کریں گے؟ یہ ریکوئسٹ کر رہے ہیں اپنے اتحادی امریکہ اور اسرائیل سے کہ اب بس کر دو ہماری بس ہو چکی ہے۔
قطر سے یہ بیان آیا ہے تو سمجھیں ابتدا قطر سے ہوئی ہے۔ ایک ایک کر کے تمام امریکی اتحادی آنے والے دنوں میں امریکہ کو ہاتھ جوڑ دیں گے کہ بھائی نکل جا یہاں سے تیری مہربانی۔ یہ ہمارے جڑے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ اپنی جنگیں خود لڑ ہماری جان چھوڑ دے بس نکل یہاں سے۔
ٹائمنگ کو دیکھیں اور ڈاٹس کنیکٹ کریں۔ سعودی شہزادے نے کال کی امریکی صدر کو کہ یمنیوں کو ٹھوک دو ہماری جان کھا گئے ہیں یہ۔ اس نے وعدے کیا کہ شام تک ان کا بندوبست ہو جائے گا تم بالکل فکر مت کرو۔ مگر صبح کے وقت شہزادے کو لالی پاپ دے کر دوپہر کو ٹرمپ مکر گیا۔ اس کے بعد قطر کا بیان آ جاتا ہے کہ تہاڈی مہربانی جان چھڈ ڈیو ہن ساڈی۔
ان کو سمجھ آ رہی ہے اب کہ امریکہ ہمارے ملکوں سے بیٹھ کر دوسروں پر حملہ کرتا ہے۔ اور جہاں مکے ٹھڈے کھانے کی باری آتی ہے ہمیں آگے کر دیتا ہے۔ اس کا اڈوں کا نقصان ہوتا ہے یعنی اینٹ پتھر کا۔ جب کہ ہماری معیشت تباہ ہو رہی ہے امریکہ اور اسرائیل کے ایڈوینچرز کی وجہ سے۔
اب یہ ہیں جان چھڑانے کے موڈ میں۔ اور اگر عربی تنگ آ جائیں اور جان چھڑانے پہ چلے جائیں تو پلے سے دے دلا کر بھی اگلے سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ میری نظر میں امریکہ کےلیے مڈل ایسٹ سے نکلنے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک دو سال اور بس۔ آثار یہ بتا رہے ہیں کہ اس کے بعد امریکہ کا بوریا بستر گول ہو جانا ہے اس خطے سے۔
ابتہال

#ابتہال

"ڈائٹنگ، ورزش، عشق، کوکنگ، سوئمنگ اور ملازمت کسی اور کو کرتا دیکھیں تو بہت آسان لگتی ہے۔
23/09/2026

"ڈائٹنگ، ورزش، عشق، کوکنگ، سوئمنگ اور ملازمت کسی اور کو کرتا دیکھیں تو بہت آسان لگتی ہے۔

کچھ صحافتی شہادتیں اور معتبر ذرائع اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر سیل کرنا بھی کچھ بااثر افراد کے لیے کر...
23/09/2026

کچھ صحافتی شہادتیں اور معتبر ذرائع اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر سیل کرنا بھی کچھ بااثر افراد کے لیے کروڑوں روپے کی "دیہاڑی" کا ذریعہ بن چکا ہے۔
اِدھر احتجاج کی محض ایک دھمکی آتی ہے اور اُدھر ہفتوں پہلے ہی دارالحکومت کی سڑکوں پر کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ یہ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ معاشی نیٹ ورک ہے۔ اب وقت ہے کہ ان سوالات کے جواب تلاش کیے جائیں:
۔ ان کنٹینرز کے اصل مالکان کون ہیں؟
۔ سرکاری خزانے سے ان کی بھاری بھرکم ادائیگیوں کا ٹھیکہ کن لوگوں کے پاس ہے؟
اگر ان تمام کڑیوں کو ملایا جائے تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ یا احتجاج کا صرف اعلان ہوتے ہی کئی سرکاری و غیر سرکاری شخصیات بالواسطہ یا بلا واسطہ نوٹ کمانا شروع کر دیتی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ سکیورٹی کی آڑ میں چلنے والے اس منافع بخش دھندے سے کون کون مال بنا رہا ہے؟

اگر یہ خبر سچ ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔ ۔ایبٹ آباد شہر کی طرح پاڑا چنار میں بھی قبرستان کا مسئلہ کافی...
23/09/2026

اگر یہ خبر سچ ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔
۔ایبٹ آباد شہر کی طرح پاڑا چنار میں بھی قبرستان کا مسئلہ کافی عرصے سے عوام کیلئے پریشانی کا سبب بنا ہوا تھا ایک کاروباری شخص نے عوام کی مشکلات کے پیش نظر گیارہ مرحلے زمین خرید کر اس پر پختہ کنکریٹ کی مکمل تیار 123 قبریں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے فی قبر کے حساب سے فروخت کیلئے پیش کر دی۔

By: Zardab Vlogs

گھر میں تانبہ ضرور رکھیے یہ الله کی وہ نعمت ہے جو آنے والے جدید دور میں ہمارے جسم کی حفاظت کرے گا .کہا جاتا ہے کہ سونا خ...
23/09/2026

گھر میں تانبہ ضرور رکھیے یہ الله کی وہ نعمت ہے جو آنے والے جدید دور میں ہمارے جسم کی حفاظت کرے گا .

کہا جاتا ہے کہ سونا خریدنے کے بعد اگر کسی دھات کو گھر میں جگہ دینی چاہیے تو وہ " تانبہ" ہے۔

ہمارے بزرگ تانبے کے برتنوں میں پانی رکھتے تھے، تانبے کی بڑی بڑی ٹرے استعمال کرتے تھے اور اسے محض ایک دھات نہیں بلکہ صحت اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔ لیکن آج جدید دور میں تانبے کے برتن ہماری زندگی سے تقریباً غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے… کیوں؟

آج ہمارا گھر پہلے کے مقابلے میں بے شمار برقی آلات سے بھرا ہوا ہے۔ موبائل فون، وائی فائی، بلوٹوتھ، روٹر، اسمارٹ ٹی وی، کمپیوٹر، بجلی کی تاریں اور مختلف وائرلیس آلات مسلسل برقی اور ریڈیو فریکوئنسی توانائی استعمال کرتے ہیں۔

تانبہ ان غیر ضروری برقی یا وائرلیس سگنلز کو روک کر انسان کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

تانبہ واقعی خدا پاک کی تخلیق کردہ ایسی دھات ہے جو بجلی کا بہترین موصل ہے اور برقی مقناطیسی لہروں کے خلاف مخصوص حالات میں shielding کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی اصول پر بعض حساس آلات کو دھاتی تہوں یا تانبے کی جالی سے محفوظ کیا جاتا ہے۔

گھر میں تانبے کی بنی چیزیں رکھنے سے غیر ضروری پھیلے موبائل، وائی فائی یا دوسرے برقی سگنلز جو استعمال میں نہیں ہوتے اور کوئی بھی ڈیوائس انہیں استعمال نہیں کر رہی ہوتی وہ انسانی جسم میں جانے سے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے

ہمارے بزرگ تانبے کے برتن کیوں استعمال کرتے تھے؟

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تانبے میں **antimicrobial خصوصیات** پائی جاتی ہیں۔ بعض جراثیم تانبے کی سطح پر زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں صدیوں سے تانبے کے برتن اور پانی ذخیرہ کرنے کے برتن استعمال ہوتے رہے ہیں۔

تانبے کو ہماری زندگی سے ختم کرنے کی کوئی سازش ہو رہی ہے؟

یہ حقیقت ضرور ہے کہ جدید زندگی نے لکڑی، مٹی اور دھات کے روایتی برتنوں کی جگہ پلاسٹک، اسٹیل، ایلومینیم اور دوسرے مصنوعی یا صنعتی مواد کو بڑی حد تک دے دی ہے۔ کیا یہ تبدیلی زیادہ تر سہولت، قیمت، صنعتی پیداوار اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات سے جڑی ہوئی ہے؟

یا پھر کچھ طاقتیں انسانوں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے ان کو ایسی چیزوں سے دور لے جا رہی ہیں جن سے ان کے مقاصد کو خطرہ ہوسکتا ہے .

آنے والے دور میں اگر خدانخواستہ شیطانی طاقتیں اگر سگنلز اور تابکاری سے انسان پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیں گی تو آپکے گھر میں موجود تانبہ آپکی حفاظت کرسکتا ہے .

کیا آپکے گھر میں تانبے کی مقدار موجود ہے؟ اور کس صورت میں ؟

#


‏ہمارے ملک کے ایک نامور سیاست دان کو آصف علی زرداری نے‏ کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں قسم قسم کے ...
23/09/2026

‏ہمارے ملک کے ایک نامور سیاست دان کو آصف علی زرداری نے
‏ کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں قسم قسم کے کھانے لگے تھے‘ان کے بقول میں نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور مختلف قسم کے کھانے اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔ اتنی دیر میں زرداری صاحب کا سیکرٹری آیا اور ان کا کھانا ان کے سامنے رکھ دیا‘ چھوٹی چھوٹی کولیوں میں تھوڑی سی بھنڈی‘ دال‘ ابلے ہوئے چاول اور آدھی چپاتی تھی‘ زرداری صاحب نے چند لقمے لیے اورخانساماں ٹرے اٹھا کر لے گیا‘

‏ میں نے ان سے ان کی سادہ خوراک کے بارے میں پوچھا تو وہ ہنس کر بولے ’’میری خوراک بس بھنڈی اور سادہ چاول تک محدود ہے‘ میں ان کے علاوہ کچھ نہیں کھا سکتا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیاآپ گوشت نہیں کھاتے‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’میں گوشت کھا ہی نہیں سکتا‘‘
‏میں کھانا کھا کر واپس آگیا لیکن آپ یقین کریں میں اس کے بعد جب بھی کھانا کھانے لگتا ہوں تو مجھے زرداری صاحب کی ٹرے یاد آ جاتی ہے اور میں کھانا بھول جاتا ہوں۔

‏ ارشاد احمد حقانی پاکستان کےسینئر صحافی اور کالم نگارتھے‘ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے تھے‘میں نے ان سے لکھنا سیکھا‘ شاہ صاحب نے بتایا میں 1998ء میں ایران جا رہا تھا‘ ارشاد احمد حقانی سے ملاقات ہوئی‘ انہوں نے پوچھا‘ کیا آپ مشہد بھی جائیں گے؟

‏ میں نے عرض کیا ’’جی جاؤں گا‘‘ انہوں نے فرمایا ’’آپ میرے لیے وہاں خصوصی دعا کیجیے گا‘‘میں نے وعدہ کر لیا لیکن اٹھتے ہوئے پوچھا ’’آپ خیریت سے تو ہیں؟‘‘ حقانی صاحب دکھی ہو کر بولے ’’میری بڑی آنت کی موومنٹ رک گئی ہے‘ پاخانہ خارج نہیں ہوتا‘ میں روز ہسپتال جاتا ہوں اور ڈاکٹر مجھے بیڈ پر لٹا کر مشین کے ذریعے میری بڑی آنت سے پاخانہ نکالتے ہیں اور یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے‘‘

‏ شاہ صاحب نے اس کے بعد کانوں کو ہاتھ لگایا‘ توبہ کی اور کہا ’’ہمیں روز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے‘ ہم اپنے منہ سے کھا بھی سکتے ہیں اور ہمارا کھایا ہوا ہمارے پیٹ سے نکل بھی جاتا ہےورنہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے کھا سکتے ہیں اور نہ نکال سکتے ہیں‘‘

‏ یہ بات سن کر مجھے بے اختیار چودھری شجاعت حسین یاد آگئے‘ چودھری صاحب خاندانی اور شان دار انسان ہیں‘ میرے ایک دوست چند دن قبل ان کی عیادت کے لیے گئے‘ چودھری صاحب خوش تھے اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے‘

‏میرے دوست نے صحت کے بارے میں پوچھا تو چودھری صاحب نے جواب دیا ’’میں بہت امپروو کر رہا ہوں‘ میں اب اپنے منہ سے کھا بھی لیتا ہوں اور اپنےپائوں پر کھڑا بھی ہو جاتا ہوں‘‘ دوست نے پوچھا ’’ آپ کی حالت اس سے پہلے کیسی تھی؟‘‘ چودھری صاحب بولے ’’میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتی تھیں اور میرے پیٹ میں ٹیوب لگی ہوئی تھی‘ ڈاکٹر مجھے اس کے ذریعے کھلاتے تھے‘ میں منہ کے ذائقے کو ترس گیا تھا‘ الحمد للہ میں اب تھوڑا تھوڑا کر کے کھا بھی لیتا ہوں اور چل پھر بھی سکتا ہوں‘‘

‏ میں بینک کے ایک مالک کو جانتا ہوں‘ یہ صبح جاگتا ہے تو چار بندے ایک گھنٹہ لگا کر اسے بیڈ سے اٹھنے کے قابل بناتے ہیں‘ یہ اس کے پٹھوں کا مساج کر کے انہیں اس قابل بناتے ہیں کہ یہ اس کے جسم کو حرکت دے سکیں‘ اس کی گاڑی کی سیٹ بھی مساج چیئر ہے‘ یہ سفر کے دوران اسےہلکا ہلکا دباتی رہتی ہے اوران کے دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر ایمبولینس ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہے‘ آپ دولت اور اثرورسوخ دیکھیں تو آپ رشک پر مجبور ہوجائیں گے اور آپ اگر اس کی حالت دیکھیں تو آپ دو دوگھنٹے توبہ کرتے رہیں‘

‏اسی طرح پاکستان میں ہوٹلز اور موٹلز کے ایک ٹائی کون ہیں‘ صدرالدین ہاشوانی‘ یہ پانچ چھ برسوں سے شدید علیل ہیں‘ ڈاکٹر اورفزیو تھراپسٹ دونوں ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں‘ ان کے پرائیویٹ جہاز میں ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں‘ فزیو تھراپسٹ دنیا جہاں سے ان کے لیے فزیو تھراپی کی مشینیں تلاش کرتے رہتے ہیں‘ مجھے جرمنی کے شہر باڈن جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ مساج اوردیسی غسل کا ٹاؤن ہے‘ شہر میں مساج کے دو دو سو سال پرانے سنٹرہیں اور دنیاجہاں سے امیر لوگ مالش کرانے کے لیے وہاں جاتے ہیں‘ چھ چھ ماہ بکنگ نہیں ملتی ‘ آپ وہاں لوگوں کی حالت دیکھیں تو آپ کی نیند اڑ جائے گی‘

‏مریض کے پروفائل میں دس دس بلین ڈالر کی کمپنی ہوتی ہے لیکن حالت دیکھیں گے تو وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قابل بھی نہیں ہوتا‘ہم انسان ایک نس کھچ جانے کے بعد اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتے‘ ہم چمچ تک نہیں اٹھا پاتے اور نگلنے کے قابل نہیں رہتے‘ یہ ہماری اصل اوقات ہے۔

‏تو پھر کس بات کا غرور اور فخر
‏توبہ کرتے رہیں معافی مانگتے رہیں
‏اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے رہیں
‏اور اس کے سامنے اپنا سر جھکاتے رہیں

‏*فبای آلا ربکما تکذبان*

‏

😟😟😬😬😬😐😐

Address

Sargodha

Telephone

+923000633098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lala's Kitchen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share